سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۸۱ - روزے میں حجامہ کی حالت

روزے میں حجامہ سے متعلق روایات

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۸۱

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ ، فَمَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ الشَّهْرِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .

ابوقلابہ روایت:

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بقیع میں چل رہے تھے کہ اسی دوران آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو چاند کی اٹھارہویں رات گزر جانے کے بعد پچھنا لگوا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا“۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ذکر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روزے کی حالت میں حجامہ لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس سے یہ مسئلہ سامنے آتا ہے کہ بعض روایات میں اس عمل کی اجازت کا پہلو بھی ملتا ہے۔ اس لیے علماء اس مسئلے میں مختلف آراء رکھتے ہیں۔ بنیادی مقصد یہ سمجھنا ہے کہ روزے کی حالت میں جسمانی علاج کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روزے میں حجامہ کے بارے میں مختلف روایات موجود ہیں
  • فقہی اختلاف کی بنیاد احادیث ہیں
  • علاج کے مسائل میں نرمی پائی جاتی ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں