سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۸۴ - روزے میں بوسہ اور نفس پر قابو

روزے میں جذبات پر کنٹرول

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۸۴

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ " .

عائشہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پہ ایسا اختیار رکھتا ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے؟

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کیا گیا کہ وہ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے اور اپنے نفس پر مکمل قابو رکھتے تھے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ہر شخص کے لیے یہ کنٹرول ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے میں اپنے جذبات کو سمجھنا اور حدود میں رکھنا ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روزے میں نفس پر قابو ضروری ہے
  • ہر شخص کا ضبط ایک جیسا نہیں ہوتا
  • حدود کے اندر جائز عمل ممکن ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں