سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۸۷ - روزے میں ازدواجی تعلقات اور ضبط نفس
روزے میں ازدواجی تعلقات اور تقویٰ
سنن ابن ماجہ : ۱۶۸۷
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۶۸۷
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : دَخَلَ الْأَسْوَدُ ، وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَا : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ ، قَالَتْ : " كَانَ يَفْعَلُ ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ " .
اسود اور مسروق روایت:
´اسود اور مسروق ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اور پوچھا` کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں مباشرت کرتے (ساتھ سوتے) تھے؟، انہوں نے کہا: ہاں، آپ ایسا کرتے تھے، اور آپ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے آدمی تھے۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۶۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں ازدواجی تعلقات رکھتے تھے لیکن اپنے نفس پر مکمل قابو رکھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ صرف ظاہری پابندی نہیں بلکہ اندرونی کنٹرول اور تقویٰ کا نام بھی ہے۔ ہر شخص کے لیے یہ معیار ایک جیسا نہیں ہوتا، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روزے میں نفس پر مکمل کنٹرول ضروری ہے
- ہر شخص کی برداشت مختلف ہوتی ہے
- تقویٰ روزے کی اصل روح ہے
