سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۴۱ - زکوٰۃ کے مستحقین کی وضاحت

زکوٰۃ کے حقدار کون ہیں

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۴۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ ، إِلَّا لِخَمْسَةٍ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا ، أَوْ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ لِغَنِيٍّ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ ، أَوْ فَقِيرٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَاهَا لِغَنِيٍّ ، أَوْ غَارِمٍ " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار کے لیے زکاۃ حلال نہیں ہے مگر پانچ آدمیوں کے لیے: زکاۃ وصول کرنے والے کے لیے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا ایسے مالدار کے لیے جس نے اپنے پیسے سے اسے خرید لیا ہو، یا کوئی فقیر ہو جس پر صدقہ کیا گیا ہو، پھر وہ کسی مالدار کو اسے ہدیہ کر دے، (تو اس مالدار کے لیے وہ زکاۃ حلال ہے) یا وہ جو مقروض ہو۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے واضح فرمایا کہ زکوٰۃ مالدار کے لیے جائز نہیں مگر چند مخصوص صورتوں میں۔ جیسے زکوٰۃ وصول کرنے والے، جہاد کرنے والے، مقروض، یا وہ شخص جس نے صدقہ کا مال خریدا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ ایک منظم نظام ہے جس کے مخصوص اصول ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زکوٰۃ کے مخصوص مستحقین ہیں
  • مالدار شخص عام طور پر زکوٰۃ نہیں لے سکتا
  • اسلامی نظام مالیات منظم ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں