سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۴۶ - نکاح سنت اور امت کی کثرت

نکاح سنتِ رسول صلى الله عليه وسلم اور امت کی برکت

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۴۶

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي ، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي ، وَتَزَوَّجُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ، وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح میری سنت اور میرا طریقہ ہے، تو جو میری سنت پہ عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، تم لوگ شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر (قیامت کے دن) فخر کروں گا، اور جو صاحب استطاعت ہوں شادی کریں، اور جس کو شادی کی استطاعت نہ ہو وہ روزے رکھے، اس لیے کہ روزہ اس کی شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے“ ۱؎۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نکاح میری سنت ہے اور جو میری سنت پر عمل نہیں کرتا وہ مجھ سے نہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے نکاح کی ترغیب دی اور فرمایا کہ میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔ جو استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کرے اور جو نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھے۔ اس سے نکاح کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نکاح سنت رسول صلى الله عليه وسلم ہے
  • امت کی کثرت مطلوب ہے
  • روزہ خواہشات کو کنٹرول کرتا ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں