سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۴۸ - تجرد اور رہبانیت کی ممانعت
اسلام میں رہبانیت کی نفی
سنن ابن ماجہ : ۱۸۴۸
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۴۸
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : " لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ ، وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا " .
سعد بن ابی وقاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی شادی کے بغیر زندگی گزارنے کی درخواست رد کر دی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ہوتی تو ہم خصی ہو جاتے ۱؎۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان کیا گیا کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے حضرت عثمان بن مظعونؓ کو شادی کے بغیر زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں رہبانیت یا دنیا سے مکمل کنارہ کشی کا تصور نہیں ہے۔ اسلام متوازن زندگی کی تعلیم دیتا ہے جس میں نکاح اور فطری ضروریات شامل ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام رہبانیت کو پسند نہیں کرتا
- نکاح فطری اور سنت طریقہ ہے
- متوازن زندگی اسلام کا اصول ہے
