سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۸۰ - ولی کے بغیر نکاح نہیں
ولی کے بغیر نکاح کی شرعی حیثیت
سنن ابن ماجہ : ۱۸۸۰
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۸۰
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وعَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ " ، وَفِي حَدِيثِ عَائِشَةَ : " وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ " .
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔ اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: ”جس کا کوئی ولی نہ ہو، اس کا ولی حاکم ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں بار بار تاکید کی گئی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ اگر ولی اختلاف کریں تو حاکم فیصلہ کرے گا۔ اس سے مقصد نکاح کے نظام کو محفوظ اور منظم رکھنا ہے تاکہ غلط استعمال نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولی کے بغیر نکاح درست نہیں
- اختلاف کی صورت میں حاکم فیصلہ کرتا ہے
- اسلامی نظام نکاح محفوظ ہے
