سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۸۸ - کم مہر پر نکاح کی اجازت

کم مہر پر نکاح کی شرعی اجازت

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۸۸۸

حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ عَلَى نَعْلَيْنِ ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ " .

عامر بن ربیعہ روایت:

بنو فزارہ کے ایک شخص نے (مہر میں) دو جوتیوں کے بدلے شادی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح جائز رکھا۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۱۸۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک شخص نے بہت کم چیز یعنی دو جوتیوں کے بدلے نکاح کیا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے جائز قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی مقدار کم بھی ہو تو نکاح درست ہے، اصل چیز رضامندی اور معاہدہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کم مہر پر نکاح جائز ہے
  • اصل اہمیت رضامندی کی ہے
  • نکاح آسان ہونا چاہیے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں