سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۲۳ - ناجائز مباشرت سے منع
ازدواجی تعلق میں حرام طریقوں سے بچاؤ
سنن ابن ماجہ : ۱۹۲۳
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۱۹۲۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جو کسی عورت سے اس کے دبر (پچھلی شرمگاہ) میں جماع کرے“ ۱؎۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۱۹۲۳ کا خلاصہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیوی سے غیر فطری طریقے سے تعلق قائم کرے گا وہ اللہ کی ناراضی کا باعث ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ازدواجی تعلق بھی حدود کے اندر رہ کر ہونا چاہیے۔ اسلام ہر رشتے میں پاکیزگی اور فطری طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ازدواجی تعلق میں حدود کا خیال ضروری ہے
- غیر فطری عمل سے بچنا چاہیے
- اسلام پاکیزگی کو پسند کرتا ہے
