سنن ابن ماجہ حدیث ۲۰۹ - سنت زندہ کرنے کا اجر
سنت زندہ کرنے کا اجر اور بدعت سے بچنے کی حدیث
سنن ابن ماجہ : ۲۰۹
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۰۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي فَعَمِلَ بِهَا النَّاسُ ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا ، لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً فَعُمِلَ بِهَا ، كَانَ عَلَيْهِ أَوْزَارُ مَنْ عَمِلَ بِهَا ، لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِ مَنْ عَمِلَ بِهَا شَيْئًا " .
عوف مزنی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میری سنتوں میں سے کسی سنت کو زندہ کیا، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا، اور اس سے عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی، اور جس کسی نے کوئی بدعت ایجاد کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ہو گا، اور اس پر عمل کرنے والوں کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع سنت ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس نے میری سنتوں میں سے کسی سنت کو زندہ کیا اور لوگوں نے اس پر عمل کیا، اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا عمل کرنے والوں کو ملے گا، اور ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ اور جس نے کوئی بدعت ایجاد کی اور لوگ اس پر عمل کرنے لگے، اسے بھی عمل کرنے والوں جیسا گناہ ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کمی نہیں ہو گی۔ یہ حدیث سنت نبوی کی قدر بتاتی ہے۔ نیکی صرف خود کرنے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اگر کوئی سنت کو زندہ کرے اور لوگ اسے اپنائیں تو اس کے لیے اجر کا دروازہ کھلتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کی سنت کو زندہ کرنا اجر کا باعث ہے۔
- لوگوں کو سنت پر عمل کی طرف لانا نیکی کا کام ہے۔
- بدعت ایجاد کرنا گناہ کا سبب بن سکتا ہے۔
- عمل کرنے والوں کے اجر یا گناہ میں کمی نہیں ہوتی۔
