سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۲۱ - ناپ تول میں انصاف کا حکم
ناپ تول میں عدل اور انصاف
سنن ابن ماجہ : ۲۲۲۱
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۲۲۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكًا أَبَا صَفْوَانَ بْنَ عُمَيْرَةَ ، قَالَ : " بِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ سَرَاوِيلَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ فَوَزَنَ لِي ، فَأَرْجَحَ لِي " .
سماک بن حرب روایت:
میں نے مالک ابوصفوان بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہجرت سے پہلے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ایک پاجامہ بیچا، آپ نے مجھے قیمت تول کر دی، اور جھکا کر دی۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب تول کرو تو پورا اور زیادہ کر کے تولو۔ اس سے معاشرے میں انصاف قائم ہوتا ہے اور کسی کا حق نہیں مارا جاتا۔ اسلام ناپ تول میں کمی کو سخت ناپسند کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ناپ تول میں انصاف ضروری ہے
- زیادہ دے کر تولنا بہتر ہے
- کسی کا حق مارنا گناہ ہے
