سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۲۵ - دھوکہ دینے کی ممانعت
دھوکہ دہی ایمان کے خلاف ہے
سنن ابن ماجہ : ۲۲۲۵
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۲۲۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِجَنَبَاتِ رَجُلٍ عِنْدَهُ طَعَامٌ فِي وِعَاءٍ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ ، فَقَالَ : " لَعَلَّكَ غَشَشْتَهُ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " .
ابوالحمراء روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جس کے پاس ایک برتن میں گیہوں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس گیہوں میں ڈالا پھر فرمایا: ”شاید تم نے دھوکا دیا ہے، جو ہمیں دھوکا دے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں واضح طور پر فرمایا گیا کہ جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور دیانت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ تجارت میں جھوٹ اور فریب کی کوئی جگہ نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دھوکہ دینا ایمان کے خلاف ہے
- تجارت میں سچائی ضروری ہے
- فریب سے بچنا لازم ہے
