سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۲۷ - خریدی ہوئی چیز کو آگے بیچنے کی ممانعت

ملکیت حاصل کیے بغیر فروخت نہ کریں

سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۲۲۷

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ح وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " ، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَ الطَّعَامِ .

عبداللہ بن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو گیہوں خریدے تو اس پر قبضہ کے پہلے اس کو نہ بیچے“۔ ابوعوانہ اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں ہر چیز کو گیہوں ہی کی طرح سمجھتا ہوں۔

سنن ابن ماجہ حدیث ۲۲۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں بھی یہی اصول بیان ہوا کہ جب تک کسی چیز پر مکمل قبضہ نہ ہو جائے، اسے آگے نہیں بیچا جا سکتا۔ اس سے بازار میں شفافیت اور انصاف برقرار رہتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قبضہ کے بغیر فروخت جائز نہیں
  • بازار میں شفافیت ضروری ہے
  • اسلامی تجارت میں اصولی پابندی ہے

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں