سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۳۰ - مال کی تقسیم اور انصاف
بغیر ثبوت کے مال کو برابر تقسیم کرنا
سنن ابن ماجہ : ۲۳۳۰
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۳۳۰
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلَانِ بَيْنَهُمَا دَابَّةٌ وَلَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے، اور ان دونوں کے درمیان ایک جانور تھا (جس پر دونوں اپنا اپنا دعویٰ کر رہے تھے) اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اسے دونوں کو آدھا آدھا بانٹ دیا۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو افراد ایک جانور پر جھگڑ رہے تھے لیکن کسی کے پاس گواہ نہیں تھا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس مال کو دونوں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کر دیا جائے۔ اس سے یہ اصول سمجھ آتا ہے کہ جب کسی دعوے میں ثبوت نہ ہو تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی ایک کو مکمل حق نہ دیا جائے بلکہ مساوی تقسیم کی جائے۔ یہ طریقہ جھگڑے کو ختم کرتا ہے اور دونوں فریقوں کو نقصان سے بچاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ثبوت نہ ہونے پر مساوی تقسیم ایک انصاف پسند حل ہے
- اسلامی عدل میں جھگڑے ختم کرنے پر زور ہے
- بغیر گواہ کسی ایک کو مکمل حق نہیں دیا جاتا
