سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۳۹ - راستے کے مسائل کا حل
اختلاف کی صورت میں راستے کا معیار
سنن ابن ماجہ : ۲۳۳۹
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۳۳۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم راستے کے سلسلہ میں اختلاف کرو تو اسے سات ہاتھ کا کر دو“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اگر راستے کے بارے میں اختلاف ہو تو اسے سات ہاتھ رکھا جائے۔ یہ اصول اجتماعی معاملات میں انصاف اور توازن پیدا کرتا ہے تاکہ کسی کو نقصان نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اجتماعی مسائل میں متوازن فیصلہ ضروری ہے
- اختلاف کی صورت میں واضح اصول اختیار کیے جاتے ہیں
- اسلامی قانون آسانی پر مبنی ہے
