سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۴۲ - ظلم کا بدلہ
ظلم کرنے کا انجام
سنن ابن ماجہ : ۲۳۴۲
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۳۴۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
ابوصرمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی کو نقصان پہنچائے گا اللہ تعالیٰ اسے نقصان پہنچائے گا، اور جو کسی پر سختی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر سختی کرے گا“۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص کسی کو نقصان پہنچائے گا اللہ اسے بھی نقصان میں مبتلا کرے گا، اور جو سختی کرے گا اس پر بھی سختی کی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظلم کا بدلہ دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے۔ یہ لوگوں کو دوسروں کے حقوق کی حفاظت کی ترغیب دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظلم کا بدلہ ملتا ہے
- دوسروں کو تکلیف دینا منع ہے
- عدل اختیار کرنا ضروری ہے
