سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۴۹ - نسب کی سچائی اور پہچان
نسب کی پہچان اور سچائی کی علامت
سنن ابن ماجہ : ۲۳۴۹
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۲۳۴۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا وَهُوَ يَقُولُ : يَا عَائِشَةُ ، " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا عَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَقَدْ بَدَتْ أَقْدَامُهُمَا ، فَقَالَ : إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ " .
عائشہ روایت:
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش خوش تشریف لائے، آپ فرما رہے تھے: ”عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی میرے پاس آیا، اس نے اسامہ اور زید بن حارثہ کو ایک چادر میں سویا ہوا دیکھا، وہ دونوں اپنے سر چھپائے ہوئے تھے، اور دونوں کے پیر کھلے تھے، تو کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں“ ۱؎۔
سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم حضرت عائشہؓ کے پاس خوشی کے ساتھ تشریف لائے اور ایک واقعہ بیان فرمایا جس میں مجزز مدلجی نے اسامہ بن زید اور زید بن حارثہ کے قدموں کو دیکھ کر کہا کہ یہ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ اس سے ان دونوں کے نسب کی سچائی اور تعلق کی طرف اشارہ ہوا۔ اس واقعہ سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بعض اوقات جسمانی مشابہت بھی نسب اور تعلقات کی سچائی کی علامت بن سکتی ہے۔ یہ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ لوگوں کے درمیان رشتوں اور نسب کے بارے میں جلدی میں غلط رائے قائم نہیں کرنی چاہیے بلکہ حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نسب اور رشتوں کے بارے میں جلد بازی سے رائے نہیں دینی چاہیے
- اللہ بعض اوقات جسمانی علامات کے ذریعے حقیقت ظاہر کرتا ہے
- مشابہت بھی سچائی کی ایک علامت ہو سکتی ہے
