سنن ابن ماجہ حدیث ۹۱۰ - اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل
سنن ابن ماجہ : ۹۱۰
سنن ابن ماجہحدیث نمبر ۹۱۰
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ : " مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ ؟ " ، قَالَ : أَتَشَهَّدُ ، ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ ، فَقَالَ : " حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: ”تم نماز میں کیا کہتے ہو؟“، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح نہیں سمجھتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم بھی اسی کے گرد گنگناتے ہیں“۔
