حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ ، وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر لوگوں کو دلا دیا جائے جو دعویٰ کریں تو بعض دوسروں کی جان اور مال لے لیں گے۔ لیکن مدعیٰ علیہ کو قسم کھانا چاہیے۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا قسم کا مدعٰی علیہ کو۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا زَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ حُبَابٍ ، حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ " .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا ایک قسم اور ایک گواہ پر۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَة َ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْهُ ، فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا ، فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے پاس مقدمہ لاتے ہو اور تم میں سے کوئی دوسرے سے زیادہ اپنی بات کو ثابت کرتا ہے اور میں اس کے موافق حکم دیتا ہوں پھر جس کو میں اس کے بھائی کا کچھ حق دلاؤں (اور نفس الامر میں وہ اس کا حق نہ ہو) تو اس کو نہ لے۔ کیونکہ میں ایک جہنم کا ٹکڑا اسے دلا رہا ہوں۔“
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَمِعَ جَلَبَةَ خَصْمٍ بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ ، فَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ ، فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ فَأَقْضِي لَهُ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ ، فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَحْمِلْهَا أَوْ يَذَرْهَا " ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑنے والے کا غل سنا، اپنے حجرے کے دروازے پر تو باہر نکلے اور فرمایا: ” میں آدمی ہوں اور میرے پاس کوئی مقدمہ والا آتا ہے اور ایک دوسرے سے بہتر بات کرتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سچا ہے اور اس کے موافق فیصلہ کر دیتا ہوں تو جس کو میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں وہ انگار کا ایک ٹکڑا ہے اس کو لے یا چھوڑ دے۔“
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، قَالَتْ : سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَجَبَةَ خَصْمٍ بِبَابِ أُمِّ سَلَمَةَ " .
اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھگڑنے والے کی پکار سنی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر، پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " دَخَلَتْ هِنْدٌ بِنْتُ عُتْبَةَ امْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ ، لَا يُعْطِينِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يَكْفِينِي وَيَكْفِي بَنِيَّ ، إِلَّا مَا أَخَذْتُ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمِهِ ، فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ جُنَاحٍ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذِي مِنْ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ مَا يَكْفِيكِ وَيَكْفِي بَنِيكِ " ،
ہند بیٹی عتبہ کی ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بی بی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کی: یا رسول اللہ! ابوسفیان بخیل ہے مجھ کو اتنا خرچ نہیں دیتا جو مجھ کو اور میرے بچوں کو کافی ہو۔ مگر میں اس کے مال میں سے لیتی ہوں اور اس کو خبر نہیں ہوتی تو اس کا گناہ ہو گا مجھ پر؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کے مال میں سے لے لے دستور کے موافق جتنا تجھ کو اور تیرے بچوں کو کافی ہو۔“
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَوَكِيعٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
ہشام سے اس سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُذِلَّهُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، وَمَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُعِزَّهُمُ اللَّهُ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي عَلَيْهِمْ بِالْمَعْرُوفِ " .
ہند زوجہ ابوسفیان کی (جو عتبہ کی بیٹی تھی اور بڑی دشمن تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کا باپ اور چچا جنگ بدر میں امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے مارا گیا اور اس عداوت سے اس نے احد کی جنگ میں امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کا کلیجہ چبا ڈالا پھر مسلمان ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت کی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی کہنے لگی: یا رسول اللہ! ساری زمین پر کوئی ڈیرہ کے لوگ ایسے نہ تھے، جن کو میں یہ چاہتی ہوتی کہ اللہ ان کو تباہ کرے، آپ کے ڈیرے والوں سے زیادہ۔ اور اب ساری زمین پر کوئی ڈیرے والے ایسے نہیں ہیں جن کو میں یہ چاہتی ہوں کہ اللہ ان کو عزت دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ڈیرے والوں سے زیادہ (مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ اور آپ کی آل مجھ کو محبوب ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابھی اور زیادہ تجھ کو محبت ہو گی (جب اسلام کا نور تیرے دل میں سمائے گا) قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔“پھر ہند رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! ابوسفیان بخیل ہے تو کیا حرج ہو گا اگر میں اس کا روپیہ اس کے بال بچوں پر صرف کروں اس کی اجازت کے بغیر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیرے اوپر کچھ گناہ نہیں اگر دستور کے موافق خرچ کرے۔“ (یہ نہیں کہ اس کا مال لٹا دے اور بے جا خرچ کرے)۔