صحیح مسلم حدیث ۱۰۹۱ - رکوع و سجدہ کی تسبیح

سبوح قدوس رب الملائکہ والروح: رکوع اور سجدہ کی مسنون تسبیح

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۹۱

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ نَبَّأَتْهُ ، " أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِه : سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ " ،

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدہ میں کہتے تھے: «سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلاَئِكَةِ وَالرُّوحِ» یعنی ”پاک ہے وہ اللہ برکت والا، پروردگار فرشتوں کا اور روح کا۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۰۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں یہ کلمات پڑھتے تھے: سبوح قدوس، رب الملائکہ والروح۔ اس دعا کا مرکزی پیغام اللہ کی پاکی اور بزرگی کا بیان ہے۔ ترجمے میں بتایا گیا کہ اللہ پاک ہے، برکت والا ہے، فرشتوں اور روح کا رب ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے رکوع اور سجدے میں اللہ کی تعظیم اور پاکی بیان کرنا خاص مقام رکھتا ہے۔ جو لوگ رکوع کی دعا، سجدہ کی دعا، سبوح قدوس کا معنی، یا رب الملائکہ والروح کی حدیث تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت مختصر مگر بہت جامع ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رکوع اور سجدے میں اللہ کی پاکی بیان کرنا نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہے۔
  • سبوح قدوس کے کلمات اللہ کی عظمت اور پاکی کو ظاہر کرتے ہیں۔
  • نماز میں فرشتوں اور روح کے رب کا ذکر بندے کو اللہ کی بڑائی یاد دلاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں