صحیح مسلم حدیث ۱۰۹۷ - سجدہ کے سات اعضاء
سجدہ کے سات اعضاء اور بال کپڑے لپیٹنے سے ممانعت
صحیح مسلم : ۱۰۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰۹۷
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ ، وَنُهِيَ أَنْ يَكْفِتَ الشَّعْرَ وَالثِّيَابَ " .
ابن عباس روایت:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ سات اعضاء پر سجدہ کریں اور منع کیا گیا بال اور کپڑوں کو لپیٹنے سے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰۹۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ سات اعضاء پر سجدہ کریں، اور بالوں اور کپڑوں کو لپیٹنے سے منع کیا گیا۔ اس حدیث کا بنیادی موضوع سجدہ کے سات اعضاء ہے۔ یہاں الفاظ تھوڑے مختلف ہیں، مگر پیغام وہی ہے کہ سجدہ نماز کا ایسا رکن ہے جس میں مخصوص اعضاء زمین پر لگتے ہیں، اور نمازی کو بال یا کپڑے لپیٹ کر اس عمل کو بدلنا نہیں چاہیے۔ جو لوگ سجدہ کا صحیح طریقہ، سات اعضاء پر سجدہ، یا نماز میں کپڑے لپیٹنے کا حکم تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ حدیث اسی مسئلے کو مختصر اور واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدہ سات اعضاء پر کرنے کا حکم دیا گیا۔
- بال اور کپڑے لپیٹنے سے منع کیا گیا۔
- نماز کے طریقے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیم کو اصل ماننا چاہیے۔
