صحیح مسلم حدیث ۱۱۰۰ - سات کناروں کا سجدہ
جب بندہ سجدہ کرتا ہے: سات کناروں کا بیان
صحیح مسلم : ۱۱۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۰۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ ، سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ ، أَطْرَافٍ وَجْهُهُ ، وَكَفَّاهُ ، وَرُكْبَتَاهُ ، وَقَدَمَاهُ " .
عباس روایت:
سیدنا عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات کنارے سجدہ کرتے ہیں اس کا چہرہ اس کے دونوں ہاتھ اس کے دونوں گھٹنے اس کے دونوں پاؤں۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۱۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات کنارے سجدہ کرتے ہیں؛ اس کا چہرہ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔ یہ حدیث سجدے کے اعضاء کو ایک آسان انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہاں بال یا کپڑے کا ذکر نہیں، بلکہ خاص توجہ اس بات پر ہے کہ سجدہ صرف سر جھکانے کا نام نہیں، بلکہ بدن کے کئی اعضاء اس عبادت میں شامل ہوتے ہیں۔ سات اعضاء پر سجدہ، چہرہ ہاتھ گھٹنے پاؤں، اور سجدہ کا صحیح طریقہ جیسے الفاظ اس حدیث کے اصل پیغام سے جڑے ہیں۔ متن ہمیں سجدے کی ظاہری شکل کو صاف سمجھاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سجدے میں چہرہ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں شامل ہوتے ہیں۔
- سجدہ بدن کے کئی اعضاء کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔
- نماز کے سجدے کا طریقہ نبی صلى الله عليه وسلم کے فرمان سے سمجھا جاتا ہے۔
