صحیح مسلم حدیث ۱۱۶۰ - کپڑے کے کنارے کندھوں پر رکھنے کی حدیث
ایک کپڑے میں نماز: کندھوں پر کنارے رکھنے کا بیان
صحیح مسلم : ۱۱۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۱۶۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح قَالَ : وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ كِلَاهُمَا ، عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ : وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ ، وَرِوَايَةُ أَبِي بَكْرٍ ، وَسُوَيْدٍ : مُتَوَشِّحًا بِهِ .
اس سند سے بھی مذکورہ روایت آئی ہے لیکن ابوکریب کی روایت میں یہ لفظ آئے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں کنارے اپنے دونوں کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے اور ابوبکر اور سوید کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑا لپیٹا ہوا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۱۶۰ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے مضمون کو اسی سند سے بیان کرتی ہے، مگر مختلف راویوں کے الفاظ کا فرق نقل کیا گیا ہے۔ ابوکریب کی روایت میں یہ الفاظ آئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کے دونوں کنارے اپنے دونوں کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔ ابوبکر اور سوید کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑا لپیٹا ہوا تھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع ایک کپڑے میں نماز، توشح، کپڑا لپیٹنا، اور کندھوں پر کپڑے کے کنارے رکھنا ہے۔ یہاں کوئی نیا واقعہ نہیں، بلکہ اسی مضمون کے لفظی فرق کو محفوظ کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ راویوں نے نماز کے لباس کے انداز کو اپنے اپنے الفاظ میں بیان کیا، مگر مرکزی بات ایک کپڑے میں نماز ہی رہی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں مختلف راویوں کے الفاظ کا فرق بیان ہوا ہے۔
- ایک لفظ میں کپڑے کے کنارے کندھوں پر رکھنے کا ذکر ہے۔
- دوسرے الفاظ میں کپڑا لپیٹنے کا بیان آیا ہے۔
