صحیح مسلم حدیث ۱۳۷ - توحید پر موت کی خوشخبری
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت: توحید پر قائم رہنا
صحیح مسلم : ۱۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۳۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً .
عثمان روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی طرح کی حدیث سماعت کی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۳۷ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کا مضمون بیان کرتی ہے کہ جو شخص اس یقین کے ساتھ دنیا سے جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اگرچہ اس روایت میں تفصیل کم ہے، مگر اس کا تعلق پچھلی حدیث کے مضمون سے ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کو سمجھ کر ماننا اور اسی پر قائم رہنا بہت بڑی نعمت ہے۔ توحید مسلمان کے دل، زبان اور عمل کی بنیاد ہے۔ حدیث میں امید بھی ہے اور ذمہ داری بھی، کیونکہ انسان کو اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہیے اور اللہ کی وحدانیت پر یقین کو زندگی بھر مضبوط رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- توحید پر یقین ایمان کا اصل ستون ہے۔
- لا الہ الا اللہ پر قائم رہنا آخرت کے لیے امید کا سبب ہے۔
- حدیث کا مضمون توحید کی اہمیت کو دہراتا ہے۔
- مسلمان کو اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہیے۔
