صحیح مسلم حدیث ۱۵۷۰ - سفر کی نماز دو رکعت

سفر کی نماز دو رکعت: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۷۰

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ ، وَالسَّفَرِ ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ ، وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ " .

عائشہ روایت:

فرض ہوئی نماز دو دو رکعت حضر میں بھی اور سفر میں بھی، پھر سفر کی نماز ویسی ہی رہی اور حضر کی بڑھا دی گئی۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۷۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع سفر کی نماز اور قصر نماز ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نماز ابتدا میں دو دو رکعت فرض ہوئی، حضر میں بھی اور سفر میں بھی۔ پھر سفر کی نماز اپنی پہلی حالت پر رہی، جبکہ حضر کی نماز بڑھا دی گئی۔ اس روایت میں بہت سادہ انداز سے یہ بتایا گیا ہے کہ مسافر کی نماز کا اصل بیان دو رکعت کے ساتھ آیا ہے۔ یہاں قصر نماز، سفر کی نماز، مسافر کی نماز اور حضر کی نماز جیسے الفاظ اہم ہیں۔ حدیث میں کسی خاص سفر کی تفصیل نہیں، بلکہ نماز کی فرضیت کے انداز کا ذکر ہے۔ اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد تک رہنی چاہیے کہ سفر کی نماز دو رکعت رہی اور حضر کی نماز میں اضافہ ہوا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابتدا میں نماز دو دو رکعت فرض ہوئی تھی۔
  • سفر کی نماز اسی پہلی حالت پر برقرار رہی۔
  • حضر کی نماز بعد میں بڑھائی گئی۔
  • مسافر کی نماز کا معاملہ حدیث میں الگ بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں