صحیح مسلم حدیث ۱۵۹۸ - امن میں بھی منیٰ کی قصر نماز

منیٰ میں دو رکعت نماز: امن اور کثرت کے باوجود قصر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۹۸

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى آمَنَ مَا كَانَ النَّاسُ ، وَأَكْثَرَهُ رَكْعَتَيْنِ " .

حارثہ بن وہب روایت:

پڑھیں میں نے رسول اللہ کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں حالانکہ لوگ اطمینان سے تھے اور زیادہ (یعنی کچھ خوف نہ تھا)۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۹۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں۔ روایت میں خاص طور پر کہا گیا کہ لوگ اطمینان میں تھے اور تعداد بھی زیادہ تھی، یعنی متن کے الفاظ میں خوف یا کمی کا ذکر نہیں، بلکہ امن اور کثرت کا ذکر ہے۔ اسی لیے یہ حدیث منیٰ میں قصر نماز اور سفر میں دو رکعت کے باب میں اہم سمجھی جاتی ہے۔ تاہم ہمیں اسی حد تک بات کرنی چاہیے جو روایت میں آئی ہے: منیٰ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز، دو رکعت، اور لوگوں کا امن و کثرت۔ اس سے بڑھ کر کوئی الگ سبب یا شرط اپنی طرف سے شامل نہیں کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔
  • یہ نماز منیٰ میں دو رکعت ادا کی گئی۔
  • روایت میں لوگوں کے امن میں ہونے کا ذکر آیا ہے۔
  • لوگوں کی کثرت کے باوجود دو رکعت پڑھنے کا بیان نقل ہوا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں