صحیح مسلم حدیث ۱۶۵۸ - سفر سے واپسی پر مسجد میں دو رکعت
سفر سے واپسی پر پہلے مسجد میں دو رکعت
صحیح مسلم : ۱۶۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۵۸
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا ، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي ، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، قَالَ : الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَدَعْ جَمَلَكَ ، وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ : فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لڑائی میں گیا اور میرے اونٹ نے دیر لگائی اور تھک گیا پھر آئے مجھ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں دوسرے دن مسجد پر پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازہ پر پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ابھی آئے۔“ میں نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ کو چھوڑ کر مسجد میں جاؤ اور دو رکعت ادا کرو۔“ پھر میں گیا اور دو رکعت پڑھ کر پھرا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۶۵۸ کا خلاصہ
یہ حدیث سفر سے واپسی کے ایک واقعے کو بیان کرتی ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ایک لڑائی میں گئے، ان کا اونٹ تھک گیا اور وہ بعد میں پہنچے۔ اگلے دن مسجد کے دروازے پر نبی صلى الله عليه وسلم سے ملاقات ہوئی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا ابھی آئے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اونٹ کو چھوڑ دو، مسجد میں جاؤ اور دو رکعت ادا کرو۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ نے اندر جا کر دو رکعت پڑھیں۔ اس روایت کا اصل موضوع سفر سے واپسی پر مسجد میں دو رکعت ہے۔ اس میں ہمیں صرف یہی بات صاف ملتی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے مسجد میں جا کر دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر سے واپس آ کر مسجد میں دو رکعت پڑھنے کا حکم اس واقعے میں آیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کو پہلے مسجد کی طرف متوجہ فرمایا۔
- حدیث میں اونٹ چھوڑ کر نماز پڑھنے کا واقعہ واضح طور پر بیان ہوا ہے۔
