صحیح مسلم حدیث ۱۸۰۱ - امام کے ساتھ اکیلے مقتدی کی جگہ
اکیلا مقتدی امام کے دائیں طرف کھڑا ہو: نماز کی صف بندی کی حدیث
صحیح مسلم : ۱۸۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۰۱
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ ، فَبِتُّ مَعَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، " فَقَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَتَنَاوَلَنِي مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ " .
ابن عباس روایت:
مجھے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے تو میں نے ان کے ساتھ وہ رات گزاری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نماز کی صف بندی ہے، خاص طور پر جب ایک ہی شخص امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات میں نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو پہلے بائیں طرف کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیچھے سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر دیا۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ اکیلا مقتدی امام کے دائیں طرف کھڑا ہوتا ہے۔ حدیث کا انداز بہت سادہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلطی پر سختی نہیں کی، بلکہ عملی طور پر درست جگہ بتا دی۔ اسی لیے اکیلے مقتدی کی جگہ، امام کے ساتھ نماز، اور نماز میں صف بندی جیسے الفاظ اس روایت کے اصل پیغام سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اکیلا مقتدی امام کے بائیں نہیں، دائیں طرف کھڑا ہو۔
- نماز میں غلط جگہ کھڑے ہونے پر نرمی سے اصلاح کی جا سکتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دینے کے لیے عملی طریقہ اختیار فرمایا۔
- رات کی نماز میں بھی صف بندی کا خیال رکھا گیا۔
