صحیح مسلم حدیث ۱۸۳ - یمن والوں کی فضیلت ایک اور سند سے
ایمان یمانی کی روایت: ایک ہی مضمون کی تائید
صحیح مسلم : ۱۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ كِلَاهُمَا ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
ابوہریرہ روایت:
معنی سابقہ حدیث والا مگر سند کچھ مختلف ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۸۳ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہی معنی نقل ہوا ہے جو سابقہ حدیث میں آیا تھا، البتہ سند مختلف ہے۔ اس لیے اس حدیث کی وضاحت بھی اسی بنیادی مضمون کے ساتھ ہے کہ یمن والوں کے بارے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نرم دلی، ایمان، فقہ اور حکمت کی نسبت بیان فرمائی۔ یہاں ایمان یمانی حدیث، یمن والوں کی فضیلت، فقہ یمانی اور حکمت یمانی جیسے الفاظ اس روایت کو تلاش کرنے والوں کے لیے اہم ہیں۔ چونکہ متن میں نئی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس سے زائد بات نہیں بڑھانی چاہیے۔ اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ ایک ہی پیغام مختلف سند کے ذریعے نقل ہوا، جس سے طالب علم کو یہ بھی سمجھ آتی ہے کہ حدیث کی روایت میں سند کا الگ ہونا ایک علمی پہلو ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت سابقہ حدیث کے معنی کی تائید کرتی ہے۔
- حدیث کے الفاظ میں نئی تفصیل نہ ہو تو اسی حد تک بات کرنی چاہیے۔
- یمن والوں کے بارے میں ایمان، فقہ اور حکمت کا مضمون برقرار ہے۔
- مختلف سند سے روایت آنا حدیث کے نقل ہونے کا ایک علمی پہلو ہے۔
