صحیح مسلم حدیث ۱۹۱۶ - واللیل اذا یغشی کی قرأت
واللیل اذا یغشی: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت کی تصدیق
صحیح مسلم : ۱۹۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۱۶
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : قَدِمْنَا الشَّامَ ، فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ : " أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، أَنَا ، قَالَ : " فَكَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1 ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى 0 ، قَالَ : وَأَنَا وَاللَّهِ هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا ، وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ ، وَمَا خَلَقَ فَلَا أُتَابِعُهُمْ " .
سیدنا علقمہ روایت:
ہم شام کو گئے تو سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہا تم میں کوئی عبداللہ کی قرأت پڑھنے والا ہے؟ میں نے کہا: ہاں میں ہی ہوں۔ انہوں نے کہا: کیونکر سنا تم نے اس آیت کو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو پڑھتے ہوئے؟ «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى» میں نے کہا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے «وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى» انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یونہی پڑھے سنا ہے اور یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ میں پڑھوں «وَمَا خَلَقَ وَالذَّكَرِ وَالأُنْثَى» تو میں ان کی نہیں مانتا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۹۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں علقمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ شام گئے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا تم میں کوئی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت پڑھنے والا ہے؟ علقمہ نے کہا کہ میں ہوں۔ پھر ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے سورہ واللیل کی قرأت پوچھی۔ علقمہ نے وہ قرأت بیان کی جو انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنی تھی۔ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر کہا کہ انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے سنا ہے۔ اس حدیث کا موضوع قرأت قرآن، صحابہ کی سماعت، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی قرأت پر قائم رہنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے قرأت کے بارے میں پوچھتے تھے۔
- سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے اپنی سماعت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت دی۔
- قرآن کی قرأت معتبر سننے اور نقل سے جڑی ہے۔
- اختلاف کی صورت میں صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی قرأت کو بنیاد بناتے تھے۔
