صحیح مسلم حدیث ۱۹۴۰ - اذان اور اقامت کے درمیان نماز
اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعت: جو چاہے پڑھے
صحیح مسلم : ۱۹۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹۴۰
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ووَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ ، قَالَهَا ثَلَاثًا ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَاءَ " .
مغفل کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر اذان اور تکبیر کے درمیان دو رکعت نماز ہے۔ تین بار۔ یہی فرمایا اور تیسری بار فرمایا: ”جس کا جی چاہے پڑھے“ (یعنی مؤکدہ نہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۱۹۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر اذان اور تکبیر کے درمیان نماز ہے۔ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی، اور تیسری بار فرمایا: جس کا جی چاہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اذان اور اقامت کے درمیان نفل نماز کی گنجائش ہے، مگر اسے لازم اور ضروری انداز میں بیان نہیں کیا گیا۔ یہ حدیث خاص طور پر مغرب سے پہلے دو رکعت، اذان کے بعد نفل، اور اقامت سے پہلے نماز کے سوالات میں اہم ہے۔ عام آدمی کے لیے بات آسان ہے: اگر وقت ہو اور ممنوع وقت نہ ہو تو آدمی نفل پڑھ سکتا ہے، مگر اسے واجب سمجھ کر لازم نہ کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان اور اقامت کے درمیان نماز پڑھنے کی اجازت بیان ہوئی ہے۔
- تیسری بار “جو چاہے” کہہ کر اسے لازم نہیں بنایا گیا۔
- نفل عبادت میں گنجائش ہے، مگر اسے واجب سمجھنا درست نہیں۔
