صحیح مسلم حدیث ۲۰۷۶ - استسقاء میں ہاتھ بلند کرنا
استسقاء میں ہاتھ اٹھانے کی حدیث: بغل کی سفیدی تک
صحیح مسلم : ۲۰۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰۷۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ ، إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " . غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ الْأَعْلَى ، قَالَ : " يُرَى بَيَاضُ إِبْطِهِ أَوْ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں اٹھاتے تھے ہاتھ کسی دعا میں مگر استسقاء میں یہاں تک اٹھاتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی۔ اور عبدالاعلیٰ کی روایت میں راوی کو شک ہے کہ ایک بغل کی یا دونوں بغلوں کی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۰۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کسی دعا میں ہاتھ اس طرح نہیں اٹھاتے تھے، مگر استسقاء میں اتنے بلند اٹھاتے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی بغل کی سفیدی دکھائی دیتی۔ روایت کے آخر میں راوی کے شک کا بھی ذکر ہے کہ ایک بغل کی سفیدی یا دونوں بغلوں کی۔ یہ احتیاط حدیث کے الفاظ نقل کرنے میں امانت کو دکھاتی ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع استسقاء میں ہاتھ اٹھانا ہے۔ لوگ اسے استسقاء کی دعا، دعا میں ہاتھ بلند کرنا، اور بغل کی سفیدی حدیث کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ متن ہمیں یہ نہیں کہتا کہ ہر دعا میں یہی انداز ہو، بلکہ خاص طور پر استسقاء کی بات کرتا ہے۔ اس لیے شرح میں اسی حد کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- استسقاء کے موقع پر ہاتھ بہت بلند اٹھانے کا ذکر ہے۔
- روایت میں عام دعا اور استسقاء کے انداز میں فرق بیان ہوا ہے۔
- راوی نے اپنے شک کو بھی امانت کے ساتھ نقل کیا۔
- اس حدیث کو خاص طور پر بارش کی دعا کے باب میں سمجھنا چاہیے۔
