صحیح مسلم حدیث ۲۲۶۹ - نصاب زکوٰۃ کی دوسری سند
زکوٰۃ کے نصاب کی حدیث: سند کی مضبوطی کا پہلو
صحیح مسلم : ۲۲۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۶۹
وحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۶۹ کا خلاصہ
اس روایت میں مختصر طور پر بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث اسی سند سے بھی مروی ہے۔ یعنی یہاں نیا حکم نہیں آ رہا، بلکہ پہلے بیان کیے گئے نصاب زکوٰۃ کے مضمون کو ایک اور سند سے نقل کیا جا رہا ہے۔ اس سے حدیث کے طالب علم کو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ محدثین صرف حکم نہیں لکھتے، بلکہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ حکم کن راستوں سے نقل ہوا۔ زکوٰۃ کا نصاب، پانچ وسق، پانچ اونٹ، اور پانچ اوقیہ جیسے الفاظ اسی سابقہ مضمون کا حصہ ہیں۔ اس حدیث سے ہماری روزمرہ سمجھ یہ بنتی ہے کہ دینی معلومات لیتے وقت اصل روایت اور اس کی نسبت کا خیال رکھا جائے۔ چونکہ متن صرف سابقہ روایت کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس لیے اس میں کوئی نئی تفصیل شامل کرنا مناسب نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت سابقہ نصاب زکوٰۃ والی حدیث کی تائید کرتی ہے۔
- محدثین سندوں کو محفوظ کر کے حدیث کی نسبت واضح کرتے ہیں۔
- مختصر روایت میں وہی معنی مراد ہوتا ہے جو سابقہ متن میں آیا۔
- دینی حکم بیان کرتے وقت غیر موجود تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
