صحیح مسلم حدیث ۲۲۹۱ - مال کے حق کی ادائیگی

زکوٰۃ اور مال کا حق: قیامت کے حساب کی یاد

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۹۱

وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَى آخِرِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا " وَلَمْ يَقُلْ : " مِنْهَا حَقَّهَا " ، وَذَكَرَ فِيهِ : " لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا " ، وَقَالَ : " يُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبْهَتُهُ وَظَهْرُهُ " .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی اونٹوں والا نہیں ہے جو اس کا حق ادا نہ کرتا ہو۔“ اور نہیں کہا کہ اس کا حق اس سے۔ اور اس میں ذکر کیا کہ ان میں سے کوئی بچہ بھی باقی نہ رہے گا اور کہا کہ داغی جائیں گی اس کے ساتھ اس کی دونوں کروٹیں اور پیشانی اور پشت۔

صحیح مسلم حدیث ۲۲۹۱ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے، مگر اس میں چند لفظی فرق بھی ذکر ہوئے ہیں۔ یہاں اونٹوں کے بارے میں الفاظ آئے کہ جو ان کا حق ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن سخت معاملہ ہوگا۔ اسی طرح سونا چاندی کے بارے میں بھی بیان ہے کہ ان سے کروٹیں، پیشانی اور پشت داغی جائیں گی۔ اس حدیث کا اصل موضوع زکوٰۃ اور مال کے حقوق ہیں۔ متن ہمیں یہ بات سمجھاتا ہے کہ مال صرف جمع کرنے کی چیز نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ذمہ داری بھی ہے۔ اونٹوں کا حق، سونا چاندی کا حق، اور قیامت کا حساب؛ یہ سب باتیں ایک ہی پیغام دیتی ہیں کہ جو حق اللہ نے مقرر کیا ہے، اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اونٹوں کے حق کی ادائیگی کا ذکر واضح الفاظ میں آیا ہے۔
  • سونا چاندی کا حق نہ دینے پر قیامت کے حساب کا بیان ہے۔
  • یہ روایت معنی میں سابقہ حدیث کی تائید کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں