صحیح مسلم حدیث ۲۳۱۷ - رشتہ دار کو دینا زیادہ اجر والا
قرابت داروں کو صدقہ: رشتہ دار کا خیال زیادہ اجر والا
صحیح مسلم : ۲۳۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۱۷
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ " .
میمونہ روایت:
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی آزاد کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور اس کا ذکر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اس کو اپنے ماموں کے دے دیتیں تو بڑا ثواب ہوتا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک لونڈی آزاد کی اور پھر اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے اپنے ماموں کو دے دیتیں تو تمہارے لیے زیادہ اجر ہوتا۔ اس حدیث سے ایک نکتہ صاف سمجھ آتا ہے کہ نیکی کے کام میں قریبی رشتہ داروں کو دیکھنا بھی اہم ہے۔ لونڈی آزاد کرنا نیکی ہے، مگر یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے پہلو کی طرف رہنمائی فرمائی جس میں قرابت کا حق بھی شامل ہو جاتا۔ یہ حدیث قرابت داروں کو صدقہ، ہدیہ یا فائدہ پہنچانے کی فضیلت بتاتی ہے، مگر صرف اسی حد تک جو متن میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے لونڈی آزاد کی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ماموں کو دینا اجر میں زیادہ ہوتا۔
- نیکی کے کام میں رشتہ داروں کا خیال رکھنا بہتر ہے۔
- صدقہ یا فائدہ پہنچانے میں قرابت کا پہلو اہم ہو سکتا ہے۔
