صحیح مسلم حدیث ۲۳۶۶ - خاوند کے گھر سے خرچ کرنے کا اجر
خاوند کے گھر سے صدقہ: اجر کم نہیں ہوتا
صحیح مسلم : ۲۳۶۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۶۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا ، وَلَهُ مِثْلُهُ بِمَا اكْتَسَبَ ، وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا " ،
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب عورت اپنے خاوند کے گھر سے خرچ کرے بغیر فساد کے تو ہو گا واسطے عورت کے اجر اس کا اور واسطے خاوند کے مثل اس کی بہ سبب اس کے کمانے کے اور واسطے عورت کے بہ سبب اس کے خرچ کرنے کے اور خزانچی کو بھی مثل اس کی سوا اس بات کے کہ کم کیا جائے اجر ان کے سے کوئی چیز۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع گھریلو خرچ اور صدقہ کا اجر ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب عورت اپنے خاوند کے گھر سے خرچ کرے، اور وہ فساد کرنے والی نہ ہو، تو اس کے لیے اس کے خرچ کا اجر ہے۔ خاوند کے لیے اس کی کمائی کی وجہ سے اجر ہے، اور خزانچی کے لیے بھی اسی طرح اجر ہے۔ حدیث میں یہ بھی صاف ہے کہ ان کے اجر میں سے کسی کا اجر کم نہیں کیا جاتا۔ اس سے صدقہ کی فضیلت کے ساتھ گھر کے باہمی تعاون کا سبق ملتا ہے۔ گھر میں جو شخص کماتا ہے، جو خیر میں خرچ کرتا ہے، اور جو مال پہنچاتا ہے، سب اپنی اپنی جگہ نیکی میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر کے مال سے خرچ فساد کے بغیر ہونا چاہیے۔
- بیوی کو خرچ کرنے پر اجر ملتا ہے۔
- شوہر کو کمانے کی وجہ سے اجر ملتا ہے۔
- خزانچی یا مال پہنچانے والا بھی اجر پا سکتا ہے۔
