صحیح مسلم حدیث ۲۴۱۰ - مال کی حرص
مال کی حرص کی حدیث: دل کی جوان خواہشیں
صحیح مسلم : ۲۴۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۱۰
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ : حُبِّ الْعَيْشِ ، وَالْمَالِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بوڑھے کے دل میں جینے کی اور مال کی حرص جوان ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع مال کی حرص اور لمبی زندگی کی خواہش ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بوڑھے کے دل میں دو چیزوں کی محبت جوان رہتی ہے: جینے کی محبت اور مال کی محبت۔ یہ بات انسان کی اندرونی کیفیت کو بہت سادہ انداز میں بیان کرتی ہے۔ عمر بڑھ جاتی ہے، جسم کمزور ہو جاتا ہے، مگر دل میں دنیا کی امید اور مال کی چاہ باقی رہ سکتی ہے۔ مال کی حرص کی حدیث ہمیں اپنے دل کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ضرورت کا مال برا ہے، بلکہ حدیث اس خواہش کی طرف توجہ دلاتی ہے جو عمر کے ساتھ بھی کم نہیں ہوتی۔ مسلمان کو چاہیے کہ رزق کے ساتھ قناعت، شکر اور دل کی نگہبانی بھی رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمر بڑھنے کے باوجود مال کی محبت دل میں باقی رہ سکتی ہے۔
- لمبی زندگی کی خواہش بھی انسان کے اندر طاقتور رہتی ہے۔
- حدیث انسان کو اپنے دل کی حالت پر غور کرنے کا موقع دیتی ہے۔
