صحیح مسلم حدیث ۲۴۱۲ - حرصِ مال
حرص مال کی حدیث: انسان بوڑھا، خواہش جوان
صحیح مسلم : ۲۴۱۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۱۲
وحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ كلهم ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ : الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ " ،
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ””ابن آدم بوڑھا ہوتا ہے اور اس میں دو چیزیں جوان رہتی ہیں مال کی حرص اور عمر کے بڑھنے کی حرص۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن آدم بوڑھا ہوتا ہے، مگر اس میں دو چیزیں جوان رہتی ہیں: مال کی حرص اور عمر کے بڑھنے کی حرص۔ الفاظ بہت مختصر ہیں مگر بات دل تک پہنچتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ عمر کے ساتھ دل خود بخود دنیا سے ہٹ جائے گا، مگر حدیث بتاتی ہے کہ ایسا لازمی نہیں۔ مال کی حرص اور لمبی عمر کی چاہ انسان کے اندر باقی رہ سکتی ہے۔ اس لیے قناعت، شکر اور اپنے نفس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ یہاں کسی خاص شخص کی مذمت نہیں، بلکہ انسان کی عمومی کمزوری کا ذکر ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ مال کو ضرورت کی چیز سمجھے، دل کا مقصد نہ بنائے، اور عمر کو اچھے کاموں کا موقع جانے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انسان بوڑھا ہو سکتا ہے مگر خواہشات باقی رہ سکتی ہیں۔
- مال کی حرص ایک ایسی چیز ہے جس پر نظر رکھنی چاہیے۔
- لمبی عمر کی خواہش کو اچھے عمل کے خیال سے جوڑنا بہتر ہے۔
