صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۴ - زکوٰۃ وصول کرنے والے کو راضی رکھنا
زکوٰۃ وصول کرنے والا آئے تو اچھا معاملہ کیسے ہو؟
صحیح مسلم : ۲۴۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۹۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وعبد الأعلى ، كلهم عَنْ دَاوُدَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ ، فَلْيَصْدُرْ عَنْكُمْ وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ " .
جریر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زکوٰۃ لینے والا تمہارے پاس آئے تو چاہیے کہ راضی جائے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جب زکوٰۃ لینے والا تمہارے پاس آئے تو وہ تمہارے پاس سے راضی ہو کر جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کے معاملے میں بدخلقی، ٹال مٹول اور جھگڑے کا راستہ نہیں اپنانا چاہیے۔ زکوٰۃ ایک عبادت بھی ہے اور حق بھی، اس لیے اسے اچھے انداز سے ادا کرنا چاہیے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ حرام مطالبہ مان لیا جائے، بلکہ جو جائز واجب حق ہے اسے خوش دلی سے ادا کیا جائے۔ اس سے معاشرے میں اعتماد رہتا ہے، عامل کو آسانی ہوتی ہے اور دینے والے کا دل بھی صاف رہتا ہے۔ زکوٰۃ وصول کرنے والے کو راضی رکھنا اصل میں اپنے فرض کو اچھے طریقے سے پورا کرنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکوٰۃ ادا کرتے وقت اچھا اخلاق رکھا جائے۔
- جائز حق کو ٹالنے یا چھپانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
- عامل زکوٰۃ کے ساتھ معاملہ صاف اور نرم ہونا چاہیے۔
- فرض ادا کرنے کا انداز بھی دین میں معنی رکھتا ہے۔
