صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۲ - فجر صادق کی واضح پہچان
فجر صادق کیا ہے؟ سحری کے وقت کی آسان پہچان
صحیح مسلم : ۲۵۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۴۲
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ ، ثُمَّ نَكَسَهَا إِلَى الْأَرْضِ ، وَلَكِنْ الَّذِي يَقُولُ هَكَذَا ، وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَى الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ " ،
سلیمان تیمی روایت:
سلیمان تیمی سے اس اسناد سے مروی ہے وہی روایت جو اوپر گزری مگر اس میں ایسا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر وہ نہیں ہے جو ایسی ہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب انگلیوں کو جمع کیا اور ان کو زمین کی طرف جھکایا (یعنی جو روشنی اوپر سے نیچے کو آئے وہ صبح صادق نہیں ہے) بلکہ صبح صادق وہ ہے جو ایسی ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ کی انگلی پر انگلی رکھی اور دونوں ہاتھوں کو پھیلایا (یعنی اشارہ کیا کہ آسمان کے کناروں میں پھیلے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۵۴۲ کا خلاصہ
یہ روایت فجر صادق کی پہچان کو بہت آسان انداز میں بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اشارے سے بتایا کہ فجر وہ نہیں جو اوپر سے نیچے کی طرف ایک لکیر کی طرح دکھائی دے۔ اصل فجر وہ ہے جو افق کے کناروں میں پھیل جاتی ہے۔ اسی لیے سحری ختم کرنے کے وقت میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ صحیح علامت دیکھی جائے۔ اس حدیث میں اذان بلال، سحری کا وقت، اور صبح صادق کی علامت ایک ساتھ سمجھ آتے ہیں۔ عام زبان میں بات یہ ہے کہ روزہ شروع ہونے کا وقت اس پھیلی ہوئی روشنی سے جڑا ہے جسے فجر صادق کہا جاتا ہے۔ اس سے روزہ دار کو اطمینان ملتا ہے کہ وہ اندازے کے بجائے واضح نشان کو دیکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فجر صادق پھیلنے والی روشنی ہے، صرف عمودی سفیدی نہیں۔
- سحری کے وقت میں فیصلہ واضح علامت پر ہونا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اشارے سے فجر کا فرق عام لوگوں کے لیے آسان کر دیا۔
