صحیح مسلم حدیث ۲۵۹۳ - جنابت، روزہ اور تقویٰ

جنابت میں روزہ اور تقویٰ: سائل کے سوال کا نبوی جواب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۹۳

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَعْمَرِ بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو طُوَالَةَ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِيهِ ، وَهِيَ تَسْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ أَفَأَصُومُ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ ، فَقَالَ : لَسْتَ مِثْلَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي " .

عائشہ روایت:

ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دروازے کی اوٹ سے سنتی تھیں۔ غرض اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! مجھے نماز کا وقت آ جاتا ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں کیا میں روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بھی نماز کا وقت آ جاتا ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں، پھر میں روزہ رکھتا ہوں۔“اس نے عرض کی کہ آپ اور ہم برابر نہیں ہیں اے اللہ کے رسول! اس لیے کہ اللہ پاک نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اللہ کی! میں امید رکھتا ہوں کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ ہوں جاننے والا ان چیزوں کا جن سے بچنا ضروری ہے۔“غرض اس سائل کو یہ گمان ہوا کہ شاید یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا کہ یہ حکم مجھ کو، تم کو، سب کو برابر ہے اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندہ کسی حالت میں تکلیف شرعی سے اور لوازم عبدیت سے باہر نہیں ہو سکتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے کہ ”میں امید رکھتا ہوں۔“ یہ کمال عبدیت ہے ورنہ واقع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ ایسا ہی ہے کہ سارے جہاں سے اعلم واتقیٰ ہیں)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۵۹۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ نماز کا وقت آ جاتا ہے اور میں جنبی ہوتا ہوں، کیا میں روزہ رکھوں؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میرے ساتھ بھی نماز کا وقت آتا ہے، میں جنبی ہوتا ہوں، پھر روزہ رکھتا ہوں۔ سائل نے کہا کہ آپ صلى الله عليه وسلم ہمارے جیسے نہیں، کیونکہ اللہ نے آپ صلى الله عليه وسلم کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے ہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے جواب دیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم امید رکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے اور بچنے کی باتوں کو جاننے والے ہیں۔ اس حدیث میں جنابت میں روزہ کے مسئلے کے ساتھ تقویٰ، علم اور نبوی جواب کا پہلو بھی موجود ہے۔ اس لیے اسے صرف فقہی سوال نہیں، بلکہ ادبِ سوال و جواب کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سائل نے اپنا مسئلہ براہ راست نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے جنابت میں صبح ہونے کے باوجود روزہ رکھنے کا ذکر فرمایا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کے خوف اور بچنے کی باتوں کے علم کا ذکر کیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں