صحیح مسلم حدیث ۲۵۹۵ - روزے کا کفارہ

رمضان کے روزے کا کفارہ: غلطی کے بعد نبوی رہنمائی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۵۹۵

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " ، قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : " هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَهَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ ، " فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ " ، فَقَالَ : " تَصَدَّقْ بِهَذَا " ، قَالَ : أَفْقَرَ مِنَّا فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا ، " فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ " ، ثُمَّ قَالَ : " اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " ،

سیدنا ابوہریرہ روایت:

ایک شخص آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کہا کہ میں ہلاک ہو گیا، یارسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کس نے ہلاک کیا تجھ کو۔ اس نے عرض کی کہ میں اپنی بیوی پر جا پڑا رمضان میں (یعنی جماع کر بیٹھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ایک غلام یا لونڈی آزاد کر سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو مہینے کے روزے برابر رکھ سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلا سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، پھر وہ بیٹھا رہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا کھجور کا آیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا اس کو صدقہ دے دے مسکینوں کو۔“ اس نے کہا کہ مجھ سے بڑھ کر کوئی مسکین ہے؟ مدینہ کے دونوں کنکریلی کالے پتھروں والی زمینوں کے بیچ میں کہ ان میں کوئی گھر والا مجھ سے بڑھ کر محتاج نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچلیاں کھل گئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے اس کو اور کھلا اپنے گھر والوں کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۵۹۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع رمضان کے روزے کا کفارہ ہے۔ ایک شخص نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں ہلاک ہو گیا، کیونکہ رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس سے ترتیب سے پوچھا: کیا غلام یا لونڈی آزاد کر سکتا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ کیا دو مہینے لگاتار روزے رکھ سکتا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ کیا ساٹھ مسکینوں کو کھلا سکتا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر کھجوروں کا ٹوکرا آیا، نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے صدقہ کرنے کو فرمایا۔ جب اس نے اپنی محتاجی بیان کی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے گھر والوں کو کھلانے کا حکم دیا۔ اس روایت میں سخت مسئلہ بھی ہے اور نبی صلى الله عليه وسلم کی شفقت بھی دکھائی دیتی ہے، مگر بات متن کی حد میں رہنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رمضان میں جماع سے متعلق شخص نے اپنی غلطی نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے بیان کی۔
  • کفارہ کے تین درجے روایت میں آئے: آزاد کرنا، دو ماہ روزے، یا ساٹھ مسکینوں کو کھلانا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے اس کی محتاجی سن کر کھجوریں گھر والوں کو کھلانے کی اجازت دی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں