صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۳ - سفر میں خدمت کا اجر

سفر میں افطار اور خدمت: اجر پانے والوں کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۲۳

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَصَامَ بَعْضٌ وَأَفْطَرَ بَعْضٌ ، فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ وَعَمِلُوا ، وَضَعُفَ الصُّوَّامُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ ، قَالَ : فَقَالَ فِي ذَلِكَ : " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے بعض صحابہ صائم تھے بعض مفطر پھر کمر خدمت چست باندھی مفطروں نے اور محنت کی اور ضعیف ہو گئے صائم لوگ بعض کاموں سے اس وقت فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ”آج مفطر لوگ ثواب کما لے گئے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ ایک سفر کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے، کچھ صحابہ نے روزہ رکھا اور کچھ نے افطار کیا۔ پھر افطار کرنے والوں نے کمر کس لی اور کام میں لگ گئے، جبکہ روزہ دار بعض کاموں میں کمزور پڑ گئے۔ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج افطار کرنے والے اجر لے گئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر حالت میں روزہ رکھنے والا کم اجر والا ہے، بلکہ اسی واقعہ میں افطار کرنے والوں نے خدمت، محنت اور عملی مدد کی، اس لیے ان کے کام کی تعریف ہوئی۔ یہ حدیث ہمیں سمجھاتی ہے کہ سفر میں حالات بدلتے ہیں، کبھی طاقت بچا کر دوسروں کی مدد کرنا بھی بڑی نیکی بن جاتا ہے۔ اصل معیار اللہ کی رضا کے لیے مفید کام کرنا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں حالات کے مطابق آسانی اختیار کی جا سکتی ہے۔
  • ساتھیوں کی خدمت اور ضروری کام کرنا اجر کا ذریعہ ہے۔
  • کسی ایک جائز عمل کو دیکھ کر دوسرے جائز عمل کو کم تر نہیں کہنا چاہیے۔
  • مشقت کے وقت عملی مدد بہت قیمتی ہوتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں