صحیح مسلم حدیث ۲۷۰۳ - روزے میں زبان اور غصے کی حفاظت

آدابِ روزہ: فحش بات اور جھگڑے سے بچنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۰۳

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رِوَايَةً ، قَالَ : " إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا ، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ ، فَإِنِ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ " .

ابوہریرہ روایت:

جو شخص روزے سے ہو وہ فحش نہ بکے اور جہالت نہ کرے اور اگر کوئی اس کو برا کہے یا لڑے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۷۰۳ کا خلاصہ

یہ حدیث روزہ دار کے اخلاق پر سیدھی بات کرتی ہے۔ فرمایا گیا کہ جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو فحش بات نہ کرے، جہالت والا رویہ نہ اپنائے، اور اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑنے آئے تو کہہ دے: میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔ اس لیے اس حدیث کا اہم لفظ “روزے میں گالی سے بچنا” ہے۔ یہاں روزہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں رہتا، بلکہ زبان، غصہ اور رویہ بھی سنبھالنے کی بات آتی ہے۔ حدیث یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہر تلخ بات کا جواب تلخی سے نہیں دیا جاتا۔ روزہ دار اپنے عمل کو یاد رکھ کر خود کو روک لیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روزہ دار کو فحش گفتگو سے بچنے کی تاکید ہے۔
  • لڑائی یا گالی کے جواب میں صبر والا جملہ کہا جائے۔
  • روزہ انسان کو زبان اور رویے پر قابو سکھاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں