صحیح مسلم حدیث ۲۷۰۷ - روزے کا بدلہ اللہ کے پاس
روزے کا اجر: بندہ کھانا اور خواہش اللہ کے لیے چھوڑتا ہے
صحیح مسلم : ۲۷۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۰۷
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعمِائَة ضِعْفٍ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
ابوہریرہ روایت:
فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ”ہر عمل آدمی کا دونا ہوتا ہے۔ اس طرح کہ ایک نیکی دس تک ہو جاتی ہے یہاں تک کہ سات سو تک بڑھتی ہے اور اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ مگر روزہ سو وہ خاص میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دیتا ہوں اس لیے کہ بندہ میرا اپنی خواہشیں اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے اور روزہ دار کو دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اس کے افطار کے وقت، دوسری خوشی ملاقات پروردگار کے وقت اور البتہ بو روزہ دار کے منہ کی اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے بوئے مشک سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۷۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں نیکی کے بڑھنے کا ذکر ہے کہ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کا بدلہ دیتا ہوں؛ بندہ اپنی خواہش اور کھانا میرے لیے چھوڑتا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی لفظ “روزے کا اجر حدیث” ہے۔ حدیث میں روزہ دار کی دو خوشیاں بھی بیان ہوئیں: افطار کے وقت خوشی اور رب سے ملاقات کے وقت خوشی۔ اسی طرح روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ بتائی گئی۔ متن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ روزہ صرف ظاہری بھوک نہیں، بلکہ اللہ کے لیے چھوڑنے اور صبر کرنے کا عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکیوں کے بڑھنے کا ذکر حدیث میں صاف آیا ہے۔
- روزہ اللہ کے لیے ہونے کی خاص نسبت رکھتا ہے۔
- روزہ دار اپنی خواہش اور کھانا اللہ کے لیے چھوڑتا ہے۔
