صحیح مسلم حدیث ۲۷۱۱ - اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ
اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھنے کی فضیلت
صحیح مسلم : ۲۷۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۱۱
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا " ،
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص ایسا نہیں جو ایک دن روزہ رکھے اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد میں) مگر دور کر دیتا ہے اللہ پاک اس دن کی برکت سے اس کے منہ کو ستر برس کی راہ دوزخ سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۷۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو بندہ اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس دن کی وجہ سے اس کے چہرے کو دوزخ سے ستر برس کی مسافت دور کر دیتا ہے۔ اس حدیث کا اہم سرچ لفظ “اللہ کی راہ میں روزہ حدیث” ہے۔ متن میں “ایک دن” اور “ستر برس” دونوں الفاظ صاف آتے ہیں، اس لیے انہیں اسی طرح بیان کرنا چاہیے۔ حدیث ہمیں روزے کی فضیلت بتاتی ہے، خاص طور پر جب وہ اللہ کی راہ میں رکھا جائے۔ اس سے باہر کسی خاص حالت کی تفصیل متن میں موجود نہیں، اس لیے ہم اسی حد تک بات رکھیں گے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- حدیث میں دوزخ سے ستر برس کی دوری کا ذکر ہے۔
- روزے کی نیت اور راستہ اللہ کے لیے ہونا اہم سمجھ آتا ہے۔
