صحیح مسلم حدیث ۲۷۲۲ - شعبان میں کثرت سے روزے
شعبان میں زیادہ روزے رکھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۷۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۲۲
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : قَدْ صَامَ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : قَدْ أَفْطَرَ ، وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ ، كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا " .
ابوسلمہ روایت:
میں نے پوچھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کیونکر رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت روزے رکھے اور اتنا افطار کرتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت افطار کیا اور میں نے ان کو جتنا شعبان میں روزے رکھتے دیکھا اتنا اور کسی ماہ میں نہیں دیکھا گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے تھے۔ پورے شعبان روزے رکھتے سوائے چند روز کے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۷۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی شعبان کے روزے کا نبوی معمول بیان ہوا ہے۔ ابوسلمہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اتنے روزے رکھتے کہ کہا جاتا بہت روزے رکھے، اور کبھی اتنا افطار کرتے کہ کہا جاتا بہت افطار کیا۔ پھر انہوں نے خاص طور پر شعبان کا ذکر کیا کہ کسی اور مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنا شعبان میں دیکھا۔ روایت کے الفاظ میں آیا کہ گویا آپ پورا شعبان روزہ رکھتے تھے، پھر وضاحت بھی آئی کہ چند روز کے سوا شعبان کے روزے رکھتے۔ اس لیے “پورے شعبان کے روزے” سمجھتے وقت اسی روایت کے آخری الفاظ کو ساتھ رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم شعبان میں بہت زیادہ روزے رکھتے تھے۔
- روایت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ چند دن افطار بھی ہوتا تھا۔
- نفل روزوں میں ایک ہی انداز لازم نہیں، کبھی زیادہ اور کبھی کم بھی ہو سکتا ہے۔
- کسی حدیث کو سمجھتے وقت اس کے مکمل الفاظ کو دیکھنا ضروری ہے۔
