صحیح مسلم حدیث ۲۷۳۶ - صوم داؤد اور جسمانی طاقت
صوم داؤد: ایک دن روزہ، ایک دن افطار
صحیح مسلم : ۲۷۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۳۶
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، سَمِعَ أَبَا الْعَبَّاسِ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ ، وَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ ، وَنَهَكَتْ لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ ، صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الشَّهْرِ كُلِّهِ " ، قُلْتُ فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : " فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى " ،
عبداللہ بن عمر روایت:
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ! تم ہمیشہ روزے رکھتے ہو اور ساری رات جاگتے ہو اور تم جب ایسا کرو گے تو آنکھیں بھر بھرا آئیں گی اور ضعیف ہو جائیں گی اور جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے تو روزہ ہی نہیں رکھا اور ہر ماہ تین دن روزہ رکھنا گویا پورے ماہ کا روزہ رکھنا ہے۔“ (یعنی ثواب کی راہ سے) تو میں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا صوم داؤدی رکھا کرو اور وہ یہ ہے کہ داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے، ایک دن افطار کرتے تھے اور پھر بھی جب دشمن کے آگے ہوتے تو کبھی نہ بھاگتے۔“ (یعنی اتنی قوت پر بھی ہمیشہ روزہ نہ رکھتے تھے جیسے تم نے اختیار کیا ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۷۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو مسلسل روزے اور رات بھر قیام کے اثرات سے آگاہ فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم ہمیشہ روزہ رکھو اور رات کو قیام کرو گے تو آنکھیں کمزور ہو جائیں گی اور جسم تھک جائے گا۔ پھر فرمایا کہ جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے روزہ ہی نہیں رکھا۔ ہر ماہ تین دن کے روزے کو پورے ماہ کے روزوں کے برابر بتایا گیا۔ جب عبداللہ رضی اللہ عنہ نے زیادہ طاقت کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم داؤد کا طریقہ بتایا: ایک دن روزہ اور ایک دن افطار۔ روایت میں داؤد علیہ السلام کے دشمن کے مقابلے سے نہ بھاگنے کا بھی ذکر آیا، یعنی ان کی عبادت کے ساتھ قوت بھی باقی تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہمیشہ روزہ اور رات بھر قیام سے جسمانی کمزوری ہو سکتی ہے۔
- ہر ماہ تین روزوں کو اس روایت میں پورے ماہ کے روزوں کے برابر بتایا گیا۔
- صوم داؤد ایک دن روزہ اور ایک دن افطار ہے۔
- عبادت میں ایسا انداز بہتر ہے جس سے طاقت بالکل ختم نہ ہو۔
