صحیح مسلم حدیث ۲۷۹۱ - محرم کے لباس کے احکام
محرم کیا پہنے؟ احرام کے لباس پر واضح حدیث
صحیح مسلم : ۲۷۹۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۷۹۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا ، مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر روایت:
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ محرم کیا پہنے کپڑوں کی قسم سے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کرتے نہ پہنو، نہ عمامے باندھو، نہ پاجامے پہنو، نہ باران کوٹ اوڑھو، نہ موزے پہنو، مگر جو چپل نہ پائے وہ موزہ پہنے مگر ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ ڈالے۔ اور نہ پہنو وہ کپڑے جو زعفران لگی ہو یا ورس میں رنگا ہوا ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۷۹۱ کا خلاصہ
یہ حدیث احرام کے لباس کے بارے میں بہت اہم اور صاف رہنمائی دیتی ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ محرم کپڑوں میں کیا پہنے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے جواب میں کچھ چیزوں سے منع فرمایا: قمیص، عمامہ، پاجامہ، برنس، موزے، اور وہ کپڑا جسے زعفران یا ورس لگا ہو۔ ساتھ ہی یہ آسانی بھی بیان ہوئی کہ جو شخص چپل نہ پائے وہ موزے پہن سکتا ہے، مگر انہیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دے۔ اس حدیث کا مرکزی لفظ محرم کا لباس ہے۔ احرام کے کپڑے، عمرہ احرام لباس، اور حج میں ممنوع لباس جیسے سرچ الفاظ بھی اسی مضمون سے نکلتے ہیں۔ حدیث کا انداز یہ ہے کہ سوال کیا گیا کیا پہنے، اور جواب میں وہ چیزیں بتائی گئیں جن سے بچنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محرم کے لیے کچھ سلے ہوئے عام لباس منع کیے گئے ہیں، جیسا کہ حدیث میں نام آئے ہیں۔
- زعفران یا ورس لگے کپڑے پہننے سے منع کیا گیا۔
- چپل نہ ملنے کی صورت میں موزے پہننے کی رخصت بیان ہوئی، مگر ٹخنوں کے نیچے کاٹنے کا ذکر بھی آیا ہے۔
