صحیح مسلم حدیث ۲۹۰۹ - نفاس میں غسل اور اہلال
نفاس میں حج کا احرام: غسل اور لبیک کی ہدایت
صحیح مسلم : ۲۹۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۰۹
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۰۹ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ جب انہیں ذوالحلیفہ میں نفاس ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، پھر انہوں نے اسماء رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ وہ غسل کریں اور اہلال کریں۔ یہ حدیث نفاس والی عورت کے حج کے بارے میں اہم ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت دو باتوں پر ہے: غسل کرنا اور لبیک کہنا۔ روایت میں اس سے آگے تفصیلی احکام بیان نہیں کیے گئے، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا درست ہے۔ حج کی حدیث، نفاس کا مسئلہ، احرام کا غسل، اور عورت کے اہلال کے بارے میں یہ روایت آسان رہنمائی دیتی ہے۔ اس میں یہ بھی نظر آتا ہے کہ مسئلہ پیش آنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم لیا گیا اور اسی پر عمل کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفاس والی عورت کے لیے اس روایت میں غسل اور اہلال کا حکم آیا ہے۔
- ذوالحلیفہ میں پیش آنے والے واقعے سے حج کے ایک عملی مسئلے کی وضاحت ہوئی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ذریعے پہنچایا گیا۔
- احرام کے معاملے میں اپنی حالت کے مطابق شرعی حکم معلوم کرنا چاہیے۔
